نئی دہلی، 15؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )قومی دارالحکومت میں ڈینگو سے مرنے والوں کی تعداد آج 18ہو گئی اور ان میں سے آدھے لوگوں کی موت آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (ایمس)میں ہوئی ہے۔دہلی میں ڈینگو کے اس سال 1100سے زیادہ معاملے سامنے آئے ہیں۔ایمس میں ڈینگو کے حوالے سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یکم ستمبر سے اب تک ڈینگو کے 9 مریضوں کی موت ہوئی ہے۔ایمس کے ایک سینئر افسر نے کل اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ڈینگو سے 5 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایمس میں کل 96مریض داخل کرائے گئے، جن میں سے 56کو چھٹی دے دی گئی۔ان مریضوں میں 70فیصد لوگ اتر پردیش کے تھے، 10فیصد بہار کے اور باقی دہلی کے تھے۔منگل تک قومی دارالحکومت میں ڈینگو کی وجہ سے کم از کم 9 افراد ہلاک ہوئے تھے ،حالانکہ جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن نے یہاں کے تمام میونسپل کارپوریشن کے مچھر سے پیدا ہونے والی بیماری کی رپورٹیں مرتب کرکے مرنے والوں کی تعداد 4 بتائی ہے۔ایمس کے بخار سے متعلق کلینکوں میں ہر دن ڈینگو کے کئی مریض آ رہے ہیں، تاہم چکن گنیا سے ڈینگو کے معاملے کم ہیں اور 13؍ستمبر تک 1440خون کے نمونوں میں چکن گنیا پایا گیا تھا۔قومی دارالحکومت میں کم از کم 1158ڈینگو کے معاملے سامنے آئے ہیں ، جن میں سے تقریبا 390معاملے ستمبر کے پہلے 10دنوں میں درج کئے گئے تھے۔یہ وہ مہینہ ہے جس میں مچھر سے پیدا ہونے والی بیماری کے مریضوں کی تعداد بڑھنے لگتی ہے۔میونسپل کارپوریشن کی آج جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ماہ 387مقدمات کی رپورٹ ملی ہے جس میں ماضی کی تعداد سے 50فیصد سے زائد کا اضافہ درج کیا گیا ہے ۔اس سیشن میں 3؍ستمبر تک 770سے زیادہ معاملے سامنے آنے کی رپورٹ ہے۔ان میں سے صرف اگست میں 652معاملے سامنے آئے تھے۔ڈینگو سے مرنے والی آخری مریض ارم خان(25)تھی جو میرٹھ کی رہائشی تھی ۔وہ جنوبی دہلی کے جامعہ نگر میں رہتی تھی اور اپولو اسپتا ل میں 31اگست کو ڈینگو کی وجہ سے اس کی موت ہو گئی تھی۔ایس ڈی ایم سی نے جن تین اور اموات کے بارے میں بتایاہے ، ان میں اوکھلا کے ممبر اسمبلی امانت اللہ خان کی رشتہ دار نازش (38)شامل ہیں جن کی 12اگست کو اپو لو اسپتا ل میں ڈینگوکی وجہ سے موت ہو گئی تھی۔یہاں شاہین باغ میں رہنے والی مسکا ن (12)کی 29؍جولائی کو موت ہو گئی تھی جبکہ اتر پردیش میں جونپور کے رہنے والے دیپک (19)کی بیماری کی وجہ سے 27؍جولائی کو موت ہو گئی تھی۔دونوں کی موت صفدر جنگ اسپتا ل میں ہوئی تھی۔ان کے علاوہ شہر میں مختلف اسپتا لوں میں پانچ دوسرے لوگوں کی موت کی خبر بھی آئی تھی، لیکن ایس ڈ ی ایم سی نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی ۔اس سال ڈینگو کے معاملے جلدی سامنے آ گئے۔مچھر سے پیدا ہونے والی بیماری کی وجہ سے 21؍جولائی کو پہلی موت اس وقت ہوئی جب شمالی مشرقی دہلی میں جعفرآباد کی ایک لڑکی نے لوک نائک جے پرکاش (ایل این جے پی)اسپتا ل میں دم توڑ دیا۔سال 1996میں دہلی میں ڈینگو کی سب سے خوفناک صورت حال تھی۔اس سال تقریبا 10252معاملے سامنے آئے تھے اور 423لوگوں کی موت ہوئی تھی۔